بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی چراغ ایسے جلا رہے ہیں

 بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی چراغ ایسے جلا رہے ہیں 

ماہین خان

جامعہ کراچی 

چلو ادھر جدھر کی ہوا چلے کے مصداق چراغ تو بہت جل رہے ہیں زمانے میں لیکن ان کی روشنی فائدہ مند اور پروانوں کے عشق کی ترجمان ہے بھی یا نہیں یہ سمجھنا ایک کٹھن کام ہے۔ آج کی دنیا میں نوجوان نسل کو سنوارنا، نکھارنا، سیدھے راستے پر قائم رکھنا اور زمانے کی چلتی تیز چمکتی دمکتی ہوا سے بچائے رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ایسے میں زمانے کی ستم ظریفی دیکھیے یہ ہوا ان مستقبل کے ستونوں کو سب سے پہلے برباد کرنے پر تلی ہے جس نے آگے جا کر معاشرے کی بنیادیں استوار کرنی ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی اس چمکتی دھمکتی دنیا میں کے نام پر بہت کچھ سکھایا جا رہا ہوتا ہے بہت سی ارگنائزیشن اس کام کو سر انجام دے رہی ہوتی ہیں لیکن ایسے ہی تیز چلتی آندھی میں ایک جلتی ہوئی مضبوط لو "اسلامی جمعیت طالبات پاکستان" نظر آتی ہے۔ اللہ رب العزت کی دین ہے ایسی محفل جو گناہوں کے دلدل سے کھینچ کر نیکیوں کے باغ تک جانے کا سفر طے کرنا آج کی نوجوان لڑکیوں کے لیے سہل بنادیتی ہے۔

ایک نصب العین" اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الہی کا اصول" تلے طالبات کو مقصد زندگی سے روشناس کراتی ہے۔

54  سال سے قائم و دائم یہ گل و چراغ کی ایک ایسی واحد نمائندے تنظیم ہے جس نے اپنی بے مثال تربیتی سسٹم سے ایسی مشعلیں روشن کی ہیں جو پوری دنیا میں دین اسلام اور اپنے اقدارو روایات کی بہترین عکاسی کر رہی ہیں۔ سالوں سے چلتی ریت کو زمانے کے نشیب و فراز کے ساتھ نئے انداز سے پیش کرتی جمیعت طالبات کی لڑکیاں ایسی پرنور کہکشاں مرتب کرتی ہیں جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ صالح اجتماعیت کا وجود آج کے اس پرفتن دور میں غنیمت ہے جو جمعیت بلا جھجک مہیا کرتی ہے۔ احساس ہے اپنائیت کا اور ایک ایسی منزل کا جس کا وعدہ اللہ رب العالمین نے کیا ہے۔

بلاشبہ یہ جمعیت ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں ہر نسل کا پھول کھلتا ہے ہر دور کی الگ سوچ رکھنے والی لڑکیاں اس قافلے کا حصہ بنتی ہیں۔ نئے زاویے مرتب ہوتے ہیں لیکن ان سب کا ایک ہی رنگ ہے ۔۔۔۔۔۔ اللہ کا رنگ۔ کتنا خوبصورت احساس ہے جو جمعیت ہمیں متعارف کرواتی ہے ۔ یہ چراغوں کی محفل کبھی بجھتی نہیں ہے یہاں سے جو طالبہ جاتی ہے اپنے پیچھے دو طالبات چھوڑ کر جاتی ہے . اور یہ ہی اس تنظیم کی سب سے خوبصورت بات ہے۔ 

چھوٹی سی عمر میں ہی ہمہ وقت داعی کا تصور دینا اس تنظیم کا خاص شعار ہے۔ تقوی کا لباس اور حیا کا زیور مہیا کرنا ان کا خاص اسلوب ہے۔ مطالعہ کا شوق پیدا کرنا خاص کر اسلامی لٹریچر پڑھانا آج کل کی لڑکیوں کو بہت مشکل ہے جس کو جمع طالبات بہت آسانی سے مختلف آڈیوز ویڈیوز سیریز و کوئز اور مختلف ایکٹیوٹیز کے ذریعے سرانجام دیتی ہے۔ اقبالیات کے ساتھ رغبت پیدا کرنا اور اچھا معیاری ادب فراہم کرنا، بحث مباحثہ میں جوہر دکھانے قابل کرنا بھی خاص کر آج کے معاشرے نظریات اور اپنے ملک کے حالات کے بارے میں باخبر رکھنا ایک خاصیت ہے۔  لڑکیوں کے لیے مثبت اور بہترین قسم کی ورکشاپس اور پروگرام کا انعقاد کرنا جس میں سر فہرست قرآن اسٹڈی پروجیکٹ ہوتا ہے جو کہ کراچی شہر اور اب تو باقی دیگر شہروں میں بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ حیا مہمات کا جامعات میں منعقد کرنا ،مختلف کونسلنگ سیشنز کروانا، اور صرف یہی نہیں بلکہ تعلیم کے حوالے سے بھی طالبات کی رہنمائی کرنا رابطہ طالبات مہم کا انعقاد کرنا اسکالرشپس مہیا کرنا کوچنگ کلاسز رکھنا گروپ اور سٹڈی سرکلز رکھنا یہ سبھی جمیت طالبات کے کام ہیں۔

غرض یہ ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جمعیت طالبات صرف دین کے کام کر رہی ہوتی ہے بلکہ دنیاوی کاموں اور تعلیم میں بھی اپنے اپ کو منوا رہی ہوتی ہیں۔ 

اس میں مایوسی کی فضا میں جمیعت طالبات بے شک ایک روشنی کی امید بن کر پھوٹتی ہے جس پر اللہ کا ہاتھ ہے۔

رب کریم سے دعا ہے کہ اس گل و گلزار سرسبز و شاداب باغ کو قائم رکھے اور رب ان سی راضی رہے ۔۔۔ آمین۔

جئے جمعیت ہزاروں سال ۔۔۔۔۔۔ 

ختم شد


Comments

Popular posts from this blog

اسلامی جمیعت طالبات پاکستان کا نصب العین

بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی